Friday, 16 July 2021

فصیل ریگ پر اتنا بھروسہ کر لیا تم نے

فصیل ریگ پر اتنا بھروسہ کر لیا تم نے

چھتیں بھی ڈال دیں اور وا دریچہ کر لیا تم نے

تعجب ہے عبادت میں بھی ایسا کر لیا تم نے

نہیں دل کو جھکایا اور سجدہ کر لیا تم نے

کبھی مانا شریعت کی کبھی اس سے رہے عاجز

مگر دعویٰ کہ دل اللہ والا کر لیا تم نے

محبت پیار ہمدردی سبھی کو رکھ دیا گروی

حصول عیش کی خاطر جو چاہا کر لیا تم نے

سمیٹا زندگی بھر کالی گوری جیب کی رونق

ڈھلا جب عمر کا سورج تو توبہ کر لیا تم نے

طہارت کی تمنا ہے نہ دل میں حق پسندی ہے

مگر معصوم چہرہ اور لبادہ کر لیا تم نے

گراں مایہ امانت تھی اسے محفوظ رکھنا تھا

ولی پاکیزہ تہذیبوں کا سودا کر لیا تم نے


ولی مدنی

No comments:

Post a Comment