Thursday, 15 July 2021

بدلے گا رنگ شام الم میرے بعد آ

 میرے بعد آ


بدلے گا رنگِ شامِ الم

میرے بعد آ

ہو گا ذرا سا درد بھی کم

میرے بعد آ

تنہائیاں بھی اپنی ہیں

اپنی ہیں ساعتیں

خود ساختہ ہیں سارے یہ غم

میرے بعد آ

خوابوں کے اس منڈیر سے دیکھا کیے مجھے

یہ اور بات ہے کہ ہوئی چشم میری نم

نمناکیوں کی بات ختم

میرے بعد آ

ہریالیوں کی بھیڑ

مگر دُکھ کی کاشت ہے

بدلے گا رنگِ چرخِ کُہن

میرے بعد آ


عین رشید

No comments:

Post a Comment