میرے بعد آ
بدلے گا رنگِ شامِ الم
میرے بعد آ
ہو گا ذرا سا درد بھی کم
میرے بعد آ
تنہائیاں بھی اپنی ہیں
اپنی ہیں ساعتیں
خود ساختہ ہیں سارے یہ غم
میرے بعد آ
خوابوں کے اس منڈیر سے دیکھا کیے مجھے
یہ اور بات ہے کہ ہوئی چشم میری نم
نمناکیوں کی بات ختم
میرے بعد آ
ہریالیوں کی بھیڑ
مگر دُکھ کی کاشت ہے
بدلے گا رنگِ چرخِ کُہن
میرے بعد آ
عین رشید
No comments:
Post a Comment