Thursday, 15 July 2021

پھول جیسی ہے کبھی یہ خار کی مانند ہے

 پھول جیسی ہے کبھی یہ خار کی مانند ہے

زندگی صحرا کبھی گلزار کی مانند ہے

تم قلم کی دھار کو کم مت سمجھنا دوستو

یہ قلم تو ہے مگر تلوار کی مانند ہے

چار دن کے واسطے سب کو ملی ہے دہر میں

زندگی بھی ریت کی دیوار کی مانند ہے

پاس پیسہ ہے نہیں پھر بھی جہاں میں مست ہوں

زندگی اپنی کسی فن کار کی مانند ہے

زندگی کس وقت دھوکا دے دے امبر کیا پتا

یہ بھی لگتا ہے کسی غدار کی مانند ہے


امبر جوشی

No comments:

Post a Comment