Friday, 9 July 2021

قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں

 قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں

زمیں لپیٹ کے رکھ دوں کہ آسمان کو میں

عزیز جاں ہو جسے مجھ سے وہ گریز کرے

کہ آج آیا ہوا ہوں خود اپنی جان کو میں

ہے موج موج مخالف مِرے سفینے کی

اور اس پہ کھولنے والا ہوں بادبان کو میں

فریبِ ذات سے باہر نکل کے دیکھ مجھے

بتا رہا ہوں زمانے کی آن بان کو میں

ہمیشہ لفظ کی حُرمت کا پاس رکھا ہے

بڑا عزیز ہوں لفظوں کے خاندان کو میں

اگر میں چاہوں تو ممتاز آسماں میں اُڑوں

گماں یقین کو دے دوں، یقیں گمان کو میں


ممتاز گورمانی

No comments:

Post a Comment