Thursday, 22 July 2021

برا ہے درد پر آخر تری ضرورت ہے

 بُرا ہے درد پر آخر تِری ضرورت ہے

بدن سرائے مسافر تری ضرورت ہے

نہیں ہے کچھ بھی اگر سامنے نہیں تیرے

یہ آئینہ جو بظاہر تری ضرورت ہے

ہوا نہ ہو تو یہ سب پھول ہیں فقط رنگت

سو دیکھ لے کہ یہ شاعر تری ضرورت ہے

تجھے بُھلایا سہاروں کی بھیڑ میں جس نے

اس ایک شخص کو اب پھر تری ضرورت ہے

انا کے حکم پہ دشمن سے رابطہ مت توڑ

تِرے وجود کا منکر تری ضرورت ہے

یونہی سجا نہ خراشوں سے چشمِ آئینہ

ابھی ہجومِ مناظر تری ضرورت ہے

میں جانتا ہوں کہ اس میں نہیں ہے دل راضی

مگر یہ قیدِ عناصر تری ضرورت ہے


رفاقت راضی

No comments:

Post a Comment