تجھ سا ملے گا ماں نہ کوئی معتبر مجھے
رہنے دے زیر پا تو یوں ہی عمر بھر مجھے
مجھ کو گزارتی رہی ماضی کی رہگزر
حسرت سے دیکھتا رہا مٹی کا گھر مجھے
میری صدائیں بر سرِ محفل نہ جب رہیں
دنیا نے تنہا چھوڑ دیا خاک پر مجھے
اک شعر جانے کس کے تصور میں کہہ دیا
برسوں پکارتا رہا میرا ہُنر مجھے
حسان قتل و خون کے منظر پہ کیا لکھوں
ہر سر دکھائی دیتا ہے اپنا ہی سر مجھے
حسان عارفی
No comments:
Post a Comment