جینے کے رنگ ڈھنگ سبھی مانتے ہیں ہم
لیکن بڑے سلیقے سے غم ٹالتے ہیں ہم
اک روز تو خیال سے باہر ملو ہمیں
تصور بنے سراپا یہ جانتے ہیں ہم
اولاد آ گئی ہے اب قد کے آس پاس
یہ بوجھ ٹل ہی جائے گا یہ مانتے ہیں ہم
چاہت پہ کیا کریں گے اب شاعری بھلا
اس کو وفا کا جذبہ نہیں مانتے ہیں ہم
میں محرموں کی تابع صدقے بصِدق جاں
لیکن ہیں انسان پہلے یہ جانتے ہیں ہم
دنیا کی کب ہے مانی یہ بات ساریہ
جو چیز نہ تھی بس میں وہ مانگتے ہیں ہم
ہما ساریہ
No comments:
Post a Comment