خموش ہوتی صداؤں کا شور دیکھا نہیں
حضور آپ نے ہجرت کا دور دیکھا نہیں
وہ آنکھ اتنی طلسماتی ہے کہ ہم نے اسے
قریب رہتے ہوئے بھی بغور دیکھا نہیں
میں اپنی عمر سے دو چار سال چھوٹا ہوں
وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے لہور دیکھا نہیں
دکھایا تھا جو فقط آپ نے وہی دیکھا
ہماری آنکھ نے پھر کچھ بھی اور دیکھا نہیں
پتا نہیں ہے تجھے کیا مِری محبت کا
تو میری فسٹ اننگ کا سکور دیکھا نہیں
ہمیشہ لڑتا ہوں اس سے یونہی زوہیب احمد
کبھی حریف کا اپنے میں زور دیکھا نہیں
احمد زوہیب
No comments:
Post a Comment