Wednesday, 20 October 2021

تری چاہت کا ہر دوزخ بجھا دینے کو کافی ہے

تِری چاہت کا ہر دوزخ بُجھا دینے کو کافی ہے

یہ اک آنسو مجھے دریا بنا دینے کو کافی ہے

کسی خُوشبو کے جھونکے کا سمندر پار سے آنا

مِرے حق میں کوئی ڈالی جُھکا دینے کو کافی ہے

تم اپنی ہار پر مجھ کو مبارکباد دیتے ہو

اچانک یہ خُوشی مجھ کو رُلا دینے کو کافی ہے

یہی گمنامیاں میری مجھے اک نام بخشیں گی

یہی چھوٹی سی اک لغزش ہوا دینے کو کافی ہے

مجھے معلوم ہے کہ میں بڑے کردار والا ہوں

یہی احساس خود کو سزا دینے کو کافی ہے


رشید امکان

No comments:

Post a Comment