اپنے مطلب کے لیے دِین کو ہتھیار بنا کر
لوگ بیٹھے ہیں سیاست کو بھی بیوپار بنا کر
اب تو رنجش میں بھی کہہ دیتے ہیں گستاخِ نبوت
قتل کرتے ہیں مخالف کو گنہ گار بنا کر
چند بہروپیے مذہب کے لبادے میں ہمیشہ
ظلم ڈھاتے ہیں مسلمانوں پہ، کفار بنا کر
دے کے معصوموں کو جنت کے محلات کا جھانسہ
بھیج دیتے ہیں گلی کوچوں میں بمبار بنا کر
فرقہ وارانہ شر انگیز تقاریر کے بَل پر
بھائی بھائی کو لڑا دیتے ہیں بے زار بنا کر
جھوٹ کے بل پہ جمع کرتے ہیں کم علموں کو پل پل
غُل مچاتے ہیں یہ دھوکے سے طرفدار بنا کر
ملک و مذہب کے تقدس کا نہیں پاس انہیں کچھ
پَل میں بِک جاتے ہیں غیروں کو خریدار بنا کر
منزہ سید
No comments:
Post a Comment