Tuesday, 4 January 2022

بیاں کس سے ہو آپ کی شان آقا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بیاں کس سے ہو آپؐ کی شان آقاﷺ

ہوئے عرش پر آپ مہمان آقا

ہے غم سے مِرا دل پریشان آقا

مِری مشکلیں بھی ہوں آسان آقا

ہو تم ہی میرا دین و ایمان آقا

دل و جان سب تم پہ قربان آقا

غریبوں سے الفت یتیموں پہ شفقت

ہیں کتنے دیالو، دیاوان آقا

زمانے کے سلطاں گدا آپ کے ہیں

دو عالم کے ہیں آپ سلطان آقا

تمہاری بلندی کا ہے کیا ٹھکانہ

ہیں جبریلؑ بھی در کے دربان آقا

جدھر آپؐ کی چشمِ رحمت ہوئی ہے

ہوا ہے ادھر فضلِ رحمان آقا

دکھایا ہمیں آپ نے حق کا رستہ

ملا آپ کے صدقے قرآن آقا

کرا دو مجھے بھی حرم کا نظارہ

ہو پورا مِرے دل کا ارمان آقا

تمہارا نہیں کوئی ثانی جہاں میں

ہو تم سب سے اعلیٰ و ذیشان آقا

سوئے ہند چشمِ کرم ہو خدارا

پریشان ہیں اب کے مسلمان آقا

کرو اپنے جلووں سے روشن خدارا

میرے دل کی دنیا ہے ویران آقا

منور کرے حجرۂ عائشہؓ کو

تمہاری وہ پیاری سی مسکان آقا

ہیں کس درجہ ہم پر مہربان آقا

تِرے نام پر حرف آنے نہ دیں گے

لگا دیں گے ہم داؤ پر جان آقا

کلی فاطمہؑ پھول شبیرؑ و شبرؑ

گُلستانِ حیدرؑ کا گُلدان آقا

ہو تم چاند، تارے صحابہؓ تمہارے

ہیں صدیقؓ، فاروقؓ و عثمانؓ آقا

ثنا خواں ہوں ادنیٰ سا میں بھی تمہارا

ہے مجھ پر تمہارا یہ فیضان آقا

نہیں نیکیاں اس کے فردِ عمل میں

ہو فیصل کی بخشش کا سامان آقا


فیصل گنوری 

No comments:

Post a Comment