عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سنہری جالیوں کو دیکھنا بخشا گیا مجھ کو
مِری اوقات تھی کیا اور کیا بخشا گیا مجھ کو
برائے مغفرت ذوقِ ثنا بخشا گیا مجھ کو
متاعِ عشقِ محبوبِ خدا بخشا گیا مجھ کو
مجھے وصفِ محمدؐ کے لیے اس کی ضرورت تھی
بہت سرمایہٴ فکرِ رضا بخشا گیا مجھ کو
جھلک جس میں ہے نعتِ رومی و اقبال و جامی کی
وہ طرزِ مدحت و رنگِ ثنا بخشا گیا مجھ کو
مجھے شامل کیا خیلِ ثناء گویانِ خواجہ میں
گدازِ کافی و سوزِ رضا بخشا گیا مجھ کو
درِ حضرت پہ میری حاضری کا بن گیا موجب
جنوں بخشا گیا تو کام کا بخشا گیا مجھ کو
طارق سلطانپوری
No comments:
Post a Comment