Thursday, 20 January 2022

ہمیں نصیب جو تیری گلی نہیں ہوتی

 ہمیں نصیب جو تیری گلی نہیں ہوتی

تو دل کے حجرے میں پھر روشنی نہیں ہوتی

تمہیں خبر ہی نہیں گھر کا حال کیسا ہے

تمہارے بعد یہاں شام ہی نہیں ہوتی

جو دکھ رہی ہے نہ پھولوں پہ سرخ رعنائی

نہ ہوتی، جو تیرے لب پر ہنسی نہیں ہوتی

بس اک شرر ہی ہے درکار روشنی کے لیے

اداس لوگوں میں کیا زندگی نہیں ہوتی

ہے جن کے پاس گھڑی وقت ان کے پاس کہاں

ہے وقت جن پہ انہی پر گھڑی نہیں ہوتی

کہانیوں پہ نہیں ہے یقیں بچوں کو

وہ جانتے ہیں کہ کوئی پر نہیں ہوتی

مزاج ریشمی رکھنے کے فائدے مت پوچھ

ہو مٹی سخت تو کوزہ گری نہیں ہوتی


ترونا مشرا

No comments:

Post a Comment