ہمیں نصیب جو تیری گلی نہیں ہوتی
تو دل کے حجرے میں پھر روشنی نہیں ہوتی
تمہیں خبر ہی نہیں گھر کا حال کیسا ہے
تمہارے بعد یہاں شام ہی نہیں ہوتی
جو دکھ رہی ہے نہ پھولوں پہ سرخ رعنائی
نہ ہوتی، جو تیرے لب پر ہنسی نہیں ہوتی
بس اک شرر ہی ہے درکار روشنی کے لیے
اداس لوگوں میں کیا زندگی نہیں ہوتی
ہے جن کے پاس گھڑی وقت ان کے پاس کہاں
ہے وقت جن پہ انہی پر گھڑی نہیں ہوتی
کہانیوں پہ نہیں ہے یقیں بچوں کو
وہ جانتے ہیں کہ کوئی پر نہیں ہوتی
مزاج ریشمی رکھنے کے فائدے مت پوچھ
ہو مٹی سخت تو کوزہ گری نہیں ہوتی
ترونا مشرا
No comments:
Post a Comment