Thursday, 20 January 2022

کچھ کرب کا باعث ہے نہ بنیاد طرب ہے

 کچھ کرب کا باعث ہے نہ بنیادِ طرب ہے

جینے کی کوئی شکل نہ مرنے کا سبب ہے

یہ کیسی ہوسناک قناعت ہے خدایا 

جو تارکِ دنیا ہے وہ فردوس طلب ہے

جس دنیا کے رہنے کا گماں تک نہیں رہنا

اس دنیا میں میں رہ جانے کی حسرت بھی عجب ہے

اک خواب کہ دورانِ دوام اس میں ادھورا

اور نیند کی مدت سے سوا عرصہؑ شب ہے

اے میری جسارت کا قدم ناپنے والے

معلوم تجھے رقبۂ اقلیمِ ادب ہے

اے فرقِ تمنا و طلب جاننے والے

بس جان کہ تو میری تمنا کی طلب ہے

ایمان کی اس خانہ خرابی کا یقیں کر

پہلے کوئی رہتا تھا یہاں پر کہ جو اب ہے

تُو بھوک میں جیتے ہوئے بندوں کا خدا ہے

تُو عیش میں دم توڑتے لوگوں کا بھی رب ہے


سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment