Thursday, 20 January 2022

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

 آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

جا نہیں سکتے کہیں دریا روانی چھوڑ کر

وہ مِرے کاسے میں یادیں چھوڑ کر یوں چل دیا

جس طرح الفاظ جاتے ہوں معانی چھوڑ کر

تم مِرے دل سے گئے ہو تو نگاہوں سے بھی جاؤ

پھر وہاں ٹھہرا نہیں کرتے نشانی چھوڑ کر

اب سنا ہے عام شہری کی طرح پھرتے ہو تم

کیا ملا ہے میرے دل کی حکمرانی چھوڑ کر

بس ابھی طوفانِ غم کا تذکرہ آیا ہی تھا

سب گھروں کو چل دئیے میری کہانی چھوڑ کر

اس طرح میرے قبیلے میں کبھی ہوتا نہیں

کیسے جاؤں تیرے غم کی میزبانی چھوڑ کر

یہ کلام اللہ کب ہے؟ جو سدا باقی رہے

دارِ فانی سے چلے ہیں نقشِ فانی چھوڑ کر


شاہنواز زیدی

No comments:

Post a Comment