تھپک کے وقت تمناؤں کو سلا دے گا
مگر یہ رات کا سورج تو پھر جگا دے گا
تھکن کا بوجھ نہ شب کی منڈیر پر رکھو
نہیں تو نظروں سے ذوق طلب گرا دے گا
سبھا میں سچ کی یدھشٹھر بھی ہوگا شرمندہ
دروپدی کو یہ انصاف اور کیا دے گا
نہ پھینک میری طرف سنگ بد گمانی کے
بکھر کے آئینہ ماحول کو ڈرا دے گا
جو تجھ سے ہو سکے تو ہڈیوں سے آگ اٹھا
چتا کی راکھ تو جھونکا کوئی اڑا دے گا
ناشر نقوی
No comments:
Post a Comment