Sunday, 16 January 2022

تھپک کے وقت تمناؤں کو سلا دے گا

 تھپک کے وقت تمناؤں کو سلا دے گا

مگر یہ رات کا سورج تو پھر جگا دے گا

تھکن کا بوجھ نہ شب کی منڈیر پر رکھو

نہیں تو نظروں سے ذوق طلب گرا دے گا

سبھا میں سچ کی یدھشٹھر بھی ہوگا شرمندہ

دروپدی کو یہ انصاف اور کیا دے گا

نہ پھینک میری طرف سنگ بد گمانی کے

بکھر کے آئینہ ماحول کو ڈرا دے گا

جو تجھ سے ہو سکے تو ہڈیوں سے آگ اٹھا

چتا کی راکھ تو جھونکا کوئی اڑا دے گا


ناشر نقوی 

No comments:

Post a Comment