Tuesday, 4 January 2022

تن کے آتش کدے بھی بجھ جائیں گے

 تن کے آتش کدے


مصائب کا پیچھا کرتا اژدھام

کچھ ہماری غلطیوں اور کج فہمیوں

کا نتیجہ ہے

اور کچھ دوسروں کا بخار جو ہمیں بھی چڑھ کر

ہمارا پارہ بلند کر دیتا ہے

‏غبارِ راہ، جو راستوں کے درمیاں

خاموشی سے سویا پڑا رہتا ہے

بے ڈھنگے قدموں کی چاپ سے اڑتا ہے

یا، ہوا کی تعلی جو ہمارے بر خلاف ہو

گرد اڑا کر ماحول کو آلودہ کر دیتی ہے

سمٹی ہوئی خاک، ہمارے قد سے زیادہ

بلند ہو کر، نتھنوں میں گھسنے لگتی ہے

جس سے سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے

آگ بجھتی ہے تو ٹھنڈی پڑ جاتی ہے

جب تک بجھی راکھ میں کوئی

آتش گیر مادہ نہ پھینکے، یا ہوا

اس کی جلن کو انگیختہ نہ کرے

شعلوں کو ٹکٹکی باندھ کر

دیکھو تو بھڑکتے ہیں

ذہن کے آتش کدے کو

کوئی فائر بریگیڈ نہیں بجھا سکتا

ایسی آگ کے شعلے، نسخۂ آتش زنی

اور، ذخیرۂ بارود خارج سے نہیں لیتے

یہ تن میں نصب ایسی لیبارٹریاں ہیں

جن میں ایٹمی مادے اور اس کے فضلے

ری پراسِس ہوتے رہتے ہیں۔

ٹھہرے ہوئے پانی میں جب تک کوئی

پتھر نہ پھنکے، گرداب نہیں بنتا

مِضراب کی چوٹ کے بغیر

فضا مرتعش نہیں ہوتی

خون بدن کے کوزے میں بند رہے گا

جب تک تلوار نیام میں رہے گی

باہر کے الاؤ ٹھنڈے رہیں، تو

تن کے آتش کدے بھی بجھ جائیں گے


قیصر اقبال

No comments:

Post a Comment