Tuesday, 4 January 2022

تیرے در پہ آج یہ گریہ کناں ہے زندگی

 تیرے در پہ آج یہ گریہ کناں ہے زندگی

میرے مولا اب تو بس محو فغاں ہے زندگی

زمین رو رہی ہے اپنی بے بسی پہ آج کل

کہ دیر اور حرم میں بھی تو اب فغاں ہے زندگی

خدائے لم یزل کی رحمتوں سے مت ہو بد گماں

یقیں کی آنکھ سے پرے تو بس گماں ہے زندگی

اپنے شعلوں میں ہی جل کے راکھ ہونے لگ گئی

اپنے ہی ردِ عمل سے اب دھواں ہے زندگی

کل تلک جو رقص فرما تھی لہو کی تال پر

رنجشوں کے قہر میں اب نوحہ خواں ہے زندگی


نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment