تیرے در پہ آج یہ گریہ کناں ہے زندگی
میرے مولا اب تو بس محو فغاں ہے زندگی
زمین رو رہی ہے اپنی بے بسی پہ آج کل
کہ دیر اور حرم میں بھی تو اب فغاں ہے زندگی
خدائے لم یزل کی رحمتوں سے مت ہو بد گماں
یقیں کی آنکھ سے پرے تو بس گماں ہے زندگی
اپنے شعلوں میں ہی جل کے راکھ ہونے لگ گئی
اپنے ہی ردِ عمل سے اب دھواں ہے زندگی
کل تلک جو رقص فرما تھی لہو کی تال پر
رنجشوں کے قہر میں اب نوحہ خواں ہے زندگی
نجمہ شاہین کھوسہ
No comments:
Post a Comment