Friday, 8 April 2022

برف یوں ہی گرے چوٹیوں کو پہاڑوں کی ڈھکتی رہے

 برف یوں ہی گرے 

چوٹیوں کو پہاڑوں کی ڈھکتی رہے 

کوہساروں میں چاندی پگھلتی رہے 

آگ جلتی رہے 

مینہ برستا رہے 

آرزؤں کے بے چین سے قافلے

 یوں ہی آہستگی سے سرکتے رہیں 

ہم یوں ہی خواب کی وادیوں سے گزرتے رہیں 

ہم یوں ہی ہر طرف 

وادیوں کوہساروں میں تحلیل ہوتے رہیں 

درختوں کی شاخوں پہ اس طرح ہی

صاف شفاف موتی دمکتے رہیں 

رقص شاخوں کا پیہم ہی جاری رہے 

برف کی آگ بس یوں ہی جلتی رہے 

برف یوں ہی گرے


نجمہ محمود

No comments:

Post a Comment