Monday, 18 April 2022

کچھ کہوں تو دم گھٹتا ہے

 کچھ کہوں تو دم گھٹتا ہے 

اور خاموشی مجھے اندر سے کاٹتی ہے 

خیالات پر لفظوں کے پہناوے 

پورے نہیں آتے 

کاغذوں پر دکھ اتارنا بھی تو دکھ کی بات ہے 

نظمیں مجھے خالی کر دیتی ہیں 

یہ شاعری تو مجھے عریاں کر دے گی

میں اور کتنے چہرے پہنوں 

بینائی کے جمگھٹے میں 

بار بار خود سے بچھڑ جاتا ہوں 

سو میں نے اپنی یاد داشت میں ایک 

تنہائی تخلیق کی 

تاکہ اس میں بیٹھ کر مجھے خود کو دہرانے 

کا موقعہ ملتا رہے 

فرصت نے مجھے تھکا دیا تھا 

شکر ہے، میں اپنے کسی کام تو آیا


انجم سلیمی

No comments:

Post a Comment