Wednesday, 20 April 2022

آپ جو درد دل کی دوا دے گئے

آپ جو دردِ دل کی دوا دے گئے

مجھ کو جینے کا اک مُدعا دے گئے

میں نے پوچھا مِرا آسرا کون ہے

لکھ کے کاغذ پہ لفظ خدا دے گئے

میں جیوں تا قیامت، قیامت ہے یہ

وہ دعا میں نہاں بد دعا دے گئے

پارہ پارہ دکھوں اس لیے وہ مجھے

ایک ٹُوٹا ہوا آئینہ دے گئے

ہجر میں میں جیوں ہجر سے میں مروں

میرے منصف مِرا فیصلہ دے گئے


تابش دھرم کوٹی

ترسیم لال ٹھاکر

No comments:

Post a Comment