رخ پہ یوں جھوم کر وہ لَٹ جائے
خضر دیکھے تو عمر کٹ جائے
اس نظارے سے کیا بچے کوئی
جو نگاہوں سے خود لپٹ جائے
یہ بھی اندھیر ہم نے دیکھا ہے
رات اک زلف میں سمٹ جائے
جانے تجھ سے ادھر بھی کیا کچھ ہے
کاش تُو سامنے سے ہٹ جائے
ان سے کہہ کر بھی دیکھ لیں غمِ دل
سیف یہ کام بھی نپٹ جائے
سیف الدین سیف
No comments:
Post a Comment