Wednesday, 13 April 2022

کہیں سے کوئی حرف معتبر شاید نہ آئے

 کہیں سے کوئی حرف معتبر شاید نہ آئے

مسافر لوٹ کر اب اپنے گھر شاید نہ آئے

قفس میں آب و دانے کی فراوانی بہت ہے

اسیروں کو خیال بال و پر شاید نہ آئے

کسے معلوم اہلِ ہجر پر ایسے بھی دن آئیں

قیامت سر سے گزرے اور خبر شاید نہ آئے

جہاں راتوں کو پڑ رہتے ہوں آنکھیں موند کر لوگ

وہاں مہتاب میں چہرہ نظر شاید نہ آئے

کبھی ایسا بھی دن نکلے کہ جب سورج کے ہمراہ

کوئی صاحب نظر آئے، مگر شاید نہ آئے

سبھی کو سہل انگاری ہنر لگنے لگی ہے

سروں پر اب غبار رہگزر شاید نہ آئے


افتخار عارف

No comments:

Post a Comment