اچھے وقتوں کی آرزو کے دن
اب نہیں زخم کے رفو کے دن
کچھ نہیں چاہیے تھا تیرے سوا
تھے عجب تیری جستجو کے دن
تُو مجھے ہر گھڑی میسر ہے
کاش بڑھ جائیں کرفیو کے دن
مرحلہ وار قربتوں کا سفر
آپ سے تم وہ تم سے تُو کے دن
ہم زبانی کا لطف شام و سحر
ہائے وہ تجھ سے گفتگو کے دن
ہو گئے رنجشوں کی نذر سبھی
تھے محبت کی جو نمو کے دن
شازیہ نورین
No comments:
Post a Comment