Monday, 11 April 2022

اچھے وقتوں کی آرزو کے دن

 اچھے وقتوں کی آرزو کے دن

اب نہیں زخم کے رفو کے دن

کچھ نہیں چاہیے تھا تیرے سوا

تھے عجب تیری جستجو کے دن

تُو مجھے ہر گھڑی میسر ہے

کاش بڑھ جائیں کرفیو کے دن

مرحلہ وار قربتوں کا سفر

آپ سے تم وہ تم سے تُو کے دن

ہم زبانی کا لطف شام و سحر

ہائے وہ تجھ سے گفتگو کے دن

ہو گئے رنجشوں کی نذر سبھی

تھے محبت کی جو نمو کے دن


شازیہ نورین

No comments:

Post a Comment