Friday, 15 April 2022

میں نے اپنے اندر کے اندھیرے کے ساتھ گزارنا چاہا

 تمہارے بعد

میں نے اپنے اندر کے اندھیرے کے ساتھ گزارنا چاہا 

تو یہ سیاہی مجھے تڑپانے لگی 

جونہی باہر کا رخ کیا

تو روشنی مجھے چندھیانے لگی 

یہ اندر اور باہر کے موسموں کے تضاد

میری زندگی کے آخری ایام میں 

مجھ سے معذرت چاہیں گے

مگر تب تک 

رائیگانی کے دکھ 

تمام دکھ

مجھے پاگل کر چکے ہوں گے


سمعیہ ملک

No comments:

Post a Comment