دیکھو ڈھونڈو
اس روئے زمین پر کوئی ایسی آنکھ ہے
جو میری آنکھ کی طرح تمہارے لیے بین کرتی ہو
جس کی دہلیز تمہارے عکس کے بوجھ تلے
زلزلوں کی زد میں ہو
دامن بھیگنے کی آس میں
کہیں دور دراز سفر کر کے بھی خشک رہا ہو
پپڑی زدہ لبوں میں جیتی سانس بارہ گیسوں کو
اپنی کوکھ میں پناہ دیے ہوئے اکھڑن کا شکار ہو
اور خوابوں کے قلعے میں چار کمروں کے پیچھے
تعمیر کی گئی پرانی گپھاہ میں
دو سالوں سے اغواہ کردہ بینائی کی متاع لٹ چکی ہو
میرے محبوب
اگر کوئی ایسی آنکھ ڈھونڈ سکو تو
میری آنکھوں کو
اپنے التباس کے صدقے کی نذر قربان کر دینا
تحریم امان اللہ بخاری
No comments:
Post a Comment