Thursday, 14 April 2022

میرے محبوب اگر کوئی ایسی آنکھ ڈھونڈ سکو تو

 دیکھو ڈھونڈو

اس روئے زمین پر کوئی ایسی آنکھ ہے

جو میری آنکھ کی طرح تمہارے لیے بین کرتی ہو

جس کی دہلیز تمہارے عکس کے بوجھ تلے 

زلزلوں کی زد میں ہو

دامن بھیگنے کی آس میں 

کہیں دور دراز سفر کر کے بھی خشک رہا ہو

پپڑی زدہ لبوں میں جیتی سانس بارہ گیسوں کو 

اپنی کوکھ میں پناہ دیے ہوئے اکھڑن کا شکار ہو

اور خوابوں کے قلعے میں چار کمروں کے پیچھے 

تعمیر کی گئی پرانی گپھاہ میں

دو سالوں سے اغواہ کردہ بینائی کی متاع لٹ چکی ہو 

میرے محبوب

اگر کوئی ایسی آنکھ ڈھونڈ سکو تو

میری آنکھوں کو 

اپنے التباس کے صدقے کی نذر قربان کر دینا


تحریم امان اللہ بخاری

No comments:

Post a Comment