حسرتِ بے قرار ہونے سے
کیا مِلا انتظار ہونے سے؟
مجھ پہ آنے لگے ہیں برگ و بار
راستے کا غبار ہونے سے
قید ہونا پڑا مجھے گھر میں
شہر میں نامدار ہونے سے
شدتِ درد ختم ہونے لگی
رنج و غم بے شمار ہونے سے
کب بچی ہے جہاں کی نظروں سے
کوئی شے پائیدار ہونے سے
زخم دینے لگے مہک اے صبح
موسمِ نوبہار ہونے سے
عارفہ صبح خان
No comments:
Post a Comment