Friday, 15 April 2022

صد شکر ابر ہجر مرے سر سے چھٹ گیا

 صد شکر ابرِ ہجر مرے سر سے چھٹ گیا

یہ بات ہے جدا، کہ بدن دکھ سے اٹ گیا

وابستگی دو گام کی عمریں نگل گئی

اور دو پلوں کا فاصلہ صدیوں میں بٹ گیا

دیتا رہا وہ پہلے جدائی کے مشورے

رُخصت سمے پھر آ کے وہ مجھ سے لپٹ گیا

مولا! عدم وجود کے یہ خوابگوں سفر

میں سوچتے ہی سوچتے رستہ بھٹک گیا

پرچھائیاں ملال کی سینے سے جھڑ گئیں

شہنائیوں کی بھیڑ میں سایہ بھی گھٹ گیا

اس وقتِ رائیگاں کا، بھلا کس سے ہو گِلہ

کٹنا تھا کس کے ساتھ، کہاں سیف کٹ گیا


سیف خان

No comments:

Post a Comment