ہٹ کے اس رہ سے جو ہے وقف بس انکار کے نام
آؤ پھر شعر کہیں گیسوئے دلدار کے نام
زہر غم لے تو چلا جاں کو مگر تشنہ لبی
جرعہ اک اور تمنائے لبِ یار کے نام
رسمِ عشاق ہے یہ اس کو نبھائیں ہم بھی
ورقِ جاں کو لکھیں شعلۂ رخسار کے نام
وہ کرے قتل تو اندیشۂ دشنام نہیں
ہر رگ جاں کو کریں دشنہ و تلوار کے نام
شہر پابندیٔ آداب لگا حکم کوئی
چاک دامن ہے مِرا رونق بازار کے نام
چوبِ بے برگ سہی دفترِ شہ میں لیکن
پھول کھلتے ہی رہیں گے سبد دار کے نام
خواب زاروں پہ رہے دھوپ کے منظر پیہم
کوئی سورج نہ جلا قریۂ بیدار کے نام
ہم نے جمشید! لکھے عمر کے سارے موسم
اس کے ہونٹوں پہ بھٹکتے ہوئے اقرار کے نام
جمشید مسرور
No comments:
Post a Comment