بیٹھے بیٹھے یاد پھر بُھولا فسانہ آ گیا
سامنے آنکھوں کے وہ گزرا زمانہ آ گیا
سازِ دل پھر چھڑ گیا، اب کان پھر بجنے لگے
آج پھر لب پر محبت کا ترانہ آ گیا
بحرِ دل سے اٹھ رہی ہیں پھر گھٹائیں مست مست
جیسے پھر بارانِ الفت کا زمانہ آ گیا
پھر نظر آنے لگی ہر شاخِ گُل ساغر بکف
ساقیٔ فطرت کو پھر پینا پلانا آ گیا
پھر لُٹاتی ہے زرِ گُل ہر طرف بادِ بہار
ہاتھ میں جیسے کہ قُدرت کا خزانہ آ گیا
بن سکھائے سیکھ لی اس نے ادائے دلبری
خود بخود مجھ کو نیازِ عاشقانہ آ گیا
دیکھ کر پندارِ انساں پر فلک کو خندہ زن
آج مجھ کو اپنے غم پر مُسکرانا آ گیا
کر چکا تھا ترک میں شعر و سخن سے واسطہ
آج پھر لب پر کلامِ والہانہ آ گیا
اللہ اللہ عشق کی مجبوریاں لاچاریاں
حضرتِ فضلی کو بھی باتیں بنانا آ گیا
سید فضل کریم فضلی
No comments:
Post a Comment