Tuesday, 1 November 2022

میں نے کہا تھا راستے ویران ہو جائیں گے

 میں نے کہا تھا


میں نے کہا تھا

راستے ویران ہو جائیں گے

اور تم نہیں مانتے تھے

میں نے کہا تھا

دروازے بند ہو جائیں گے

اور تم نہیں مانتے تھے

میں نے کہا تھا

ٹیرس کے گملے سوکھ جائیں گے

اور پورچ میں

خشک پتوں کا ڈھیر لگ جائے گا

اور تم نہیں مانتے تھے

میں نے کہا تھا

محبت اور اناج کے

ذخیرے کم پڑ جائیں گے

اور تم نہیں مانتے تھے

میں نے کہا تھا

لوگ جنگوں سے نہیں

ان دیکھی وبا

اور تنہائی سے مریں گے

اور تم نہیں مانتے تھے

میں نے کہا تھا


نصیر احمد ناصر

No comments:

Post a Comment