Wednesday, 2 November 2022

اسی قبیل کے شاید اسی قماش کے ہیں

 اسی قبیل کے شاید اسی قماش کے ہیں 

سبھی خریدے ہوئے ایک بدمعاش کے ہیں

سنبھال رکھو کہ ان سے شناخت ہونی ہے 

یہ جوتے اور یہ موزے ہماری لاش کے ہیں

کسی کو دل سے ملا تُو، کسی کو آنکھوں سے

یہ شاہراہ ، یہ رستے تری تلاش کے ہیں 

کسی نے ہم کو مہذب بنا کے چھوڑ دیا

سو تب سے مسئلے اپنے بھی بود و باش کے ہیں 

ہے سارا کھیل بھی توقیر اس کی مرضی کا 

اور اپنے ہاتھ میں پتے بھی اس کی تاش کے ہیں 


توقیر رضا

No comments:

Post a Comment