اسی قبیل کے شاید اسی قماش کے ہیں
سبھی خریدے ہوئے ایک بدمعاش کے ہیں
سنبھال رکھو کہ ان سے شناخت ہونی ہے
یہ جوتے اور یہ موزے ہماری لاش کے ہیں
کسی کو دل سے ملا تُو، کسی کو آنکھوں سے
یہ شاہراہ ، یہ رستے تری تلاش کے ہیں
کسی نے ہم کو مہذب بنا کے چھوڑ دیا
سو تب سے مسئلے اپنے بھی بود و باش کے ہیں
ہے سارا کھیل بھی توقیر اس کی مرضی کا
اور اپنے ہاتھ میں پتے بھی اس کی تاش کے ہیں
توقیر رضا
No comments:
Post a Comment