گلے میں ڈالو دکھوں کی بھاری صلیب بچو
تمہاری دشمن ہیں راحتیں بد نصیب بچو
تمہیں مرض کا علاج کرنا پڑے گا خود ہی
کہ مر گئے ہیں نگر کے بوڑھے طبیب بچو
تباہیوں کی ہیں پیش گوئی یہ سُرخ بادل
چلے جو آندھی تو گھر کے رہنا قریب بچو
کسی کی انگلی پکڑ کے میلے میں ضد نہ کرنا
کوئی نہیں ہے یہاں کسی کا حبیب بچو
ہُمکتے رہنا بڑا کٹھن ہے، یہی سمجھ لو
تمہاری خاطر نہ تھے کھلونے غریب بچو
انہی کے بارے میں تم بڑوں سے سوال کرنا
دکھائی دیتی ہیں جو بھی چیزیں عجیب بچو
مدد کو آتا نہیں خوشی کا اُڑن کھٹولا
بگولے ہوتے ہیں دشتِ غم میں نقیب بچو
رفیق سندیلوی
No comments:
Post a Comment