Thursday, 3 November 2022

گلے میں ڈالو دکھوں کی بھاری صلیب بچو

 گلے میں ڈالو دکھوں کی بھاری صلیب بچو

تمہاری دشمن ہیں راحتیں بد نصیب بچو

تمہیں مرض کا علاج کرنا پڑے گا خود ہی

کہ مر گئے ہیں نگر کے بوڑھے طبیب بچو

تباہیوں کی ہیں پیش گوئی یہ سُرخ بادل

چلے جو آندھی تو گھر کے رہنا قریب بچو

کسی کی انگلی پکڑ کے میلے میں ضد نہ کرنا

کوئی نہیں ہے یہاں کسی کا حبیب بچو

ہُمکتے رہنا بڑا کٹھن ہے، یہی سمجھ لو

تمہاری خاطر نہ تھے کھلونے غریب بچو

انہی کے بارے میں تم بڑوں سے سوال کرنا

دکھائی دیتی ہیں جو بھی چیزیں عجیب بچو

مدد کو آتا نہیں خوشی کا اُڑن کھٹولا

بگولے ہوتے ہیں دشتِ غم میں نقیب بچو


رفیق سندیلوی

No comments:

Post a Comment