Monday, 14 November 2022

غم دنیا پہ غم ذات پہ رو دیتے ہیں

غم دنیا پہ غم ذات پہ رو دیتے ہیں

غم کے مارے ہوئے ہر بات پہ رو دیتے ہیں

ہم کو رونا ہے تو بس آج کا ہی رونا ہے

لوگ گزرے ہوئے حالات پہ رو دیتے ہیں

یاد آتا ہے کسی بات پہ روئے تھے کبھی

اب یہ عالم ہے کہ ہر بات پہ رو دیتے ہیں

ہم تو خود موڑ دیا کرتے ہیں حالات کا رخ

ہم نہیں وہ کہ جو حالات پہ رو دیتے ہیں

یہ ادا دیکھی ہے ہم نے ترے دیوانوں کی

جس پہ ہنستے ہیں اسی بات پہ رو دیتے ہیں

آخری بار کوئی ہم سے ملا تھا آ کر

یاد آتی ہے تو اس رات پہ رو دیتے ہیں

کل جو رخ پھیر لیا کرتے تھے مجھ سے اختر

آج وہ بھی مرے حالات پہ رو دیتے ہیں


اختر گوالیاری

No comments:

Post a Comment