"صاحبہ تیرا بدل جانا کوئی حادثہ ہے؟"
خواب دیکھے گئے تعبیروں کی لالچ کے بغیر
زخم کھائے گئے مرہم کی تمنا کے سوا
کو بہ کو بکھری اداسی کو اکھٹا کر کے
حوضِ دل میں جو بہایا تو بڑا لطف ملا
زندگی تیرے تعاقب میں گزاری ہم نے
سانحہ یہ بھی الگ ہے کہ ہمیں تو نا ملا
تیری کوشش تھی کہ میں پختہ بنوں درد سہوں
اور یہاں پر دلِ بے زار میں دم بھی نہیں ہے
تو نے ہنستے ہوئے رونے کے وسیلے بانٹے
پھر بھی گردن میں ندامت کا کوئی خم بھی نہیں؟
چار سو غم کی فصیلوں میں گھرا تیرا حسن
اب بھی امید میں آنکھوں کو نہیں بند کرتا
خون آ تیرے تو میں دیر نہیں کرتا ہوں
تیرے آنچل سے ہٹا دیتا ہوں آنکھوں کا لہو
صاف رکھتا ہوں میں منظر ترے رستے کا مگر
صاحبہ تو نے کسی اور کے گن گائے ہیں
تجھے معلوم تھا یہ سب مجھے برداشت نہیں
تیرے بیمار تِرے دم سے شفایاب ہوئے
صاحبہ مرنے لگیں گے تو صدا دیں گے تجھے
دیکھ جانا تِرا بیمار کی رخصت کے سمے
اس کے ہونٹوں پہ تیرے نام کے نغمے ہوں گے
روزِ محشر تو کھڑی ہو گی گنہ گاروں میں
اور وفاؤں کے مِرے سینے پہ تمغے ہوں گے
ہم وہاں پر بھی بھرم رکھیں گے تیرا اور
تجھے ملزمانوں کی قطاروں سے نکال لائیں گے
اور تجھے بخشیں گے پہلو جہاں آرام سے
تو جاوداں ہوتی ہوئی عمر کے منظر دیکھے
صاحبہ تجھ سے محبت ہے محبت رہے گی
حسن رضا
No comments:
Post a Comment