پہلے تھا کوئی ساتھ نہ اب ہے ہمارے ساتھ
لے دے کے ایک رب تھا سو رب ہے ہمارے ساتھ
بچھڑی پلک جھپکتے ہی جب سے شب وصال
تب سے طویل ہجر کی شب ہے ہمارے ساتھ
آنکھوں میں خواب آتے ہیں آتی نہیں ہے نیند
مدت سے مسئلہ یہ عجب ہے ہمارے ساتھ
جو کچھ بھی تھا ہمارا وہ ہم سے بچھڑ گیا
جو کچھ نہیں ہمارا وہ سب ہے ہمارے ساتھ
اے دور جانے والے تجھے کچھ خبر بھی ہے
پہلے سے بھی زیادہ تو اب ہے ہمارے ساتھ
ہم اس کو دیکھ لیتے ہیں آنکھوں کو موند کر
اک چھب ہمارے ساتھ تھی، چھب ہے ہمارے ساتھ
راجیش ریڈی
No comments:
Post a Comment