اب ان آنکھوں میں تِرا خواب نہیں آ سکتا
جس طرح جیب میں تالاب نہیں آ سکتا
کیسے ممکن ہے تِرے شہر میں رہنے لگ جاؤں
روہی کو چھوڑ کے پنجاب نہیں آ سکتا
مجھ پہ گزرا ہے وہ باقاعدہ وصل ایسا کہ اب
میرے حصے میں کوئی خواب نہیں آ سکتا
اس کھلونے کی خریداری میں عمریں لگیں گی
بیٹا! ان پیسوں میں مہتاب نہیں آ سکتا
کیا ہم اک دوسرے کی خوشبو نہیں لے سکتے
کیا کبھی دشت میں سیلاب نہیں آ سکتا
وہ مِرے خواب بھلا دیکھے تو دیکھے کیونکر
کسی ہندسے پہ تو اعراب نہیں آ سکتا
سرخرُو عشق کی پرکار میں اے خالقِ عشق
کیا مِرا حلقۂ احباب نہیں آ سکتا
آل عمر
No comments:
Post a Comment