Thursday, 8 December 2022

خدا آباد رکھے اور بھلا اس بام کا ہو

 خدا آباد رکھے اور بھلا اس بام کا ہو

ہمیں وہ زخم دیتا ہے سدا جو کام کا ہو

تھکن کس کی زیادہ ہے دلوں سے فی زمانہ

تقابل دھڑکنوں سے گردشِ ایام کا ہو

ہمارے بیچ مذہب نے لکیرِ ہجر کھینچی

میں کہتا تھا؛ خدا کی بن، وہ کہتی؛ رام کا ہو

ردائے غم ادب سے اوڑھتا ہوں میں کچھ ایسے

کہ جیسے کپڑا زائر کے لیے احرام کا ہو

وہ چہرہ دیکھ جس کا صبحدم صبحیں کریں ورد

وہ آنکھیں ڈھونڈ جن میں رنگ گہری شام کا ہو

تھکن کا سلسلہ ٹوٹے بدن سے بار اُترے

کم از کم موت جیسا وقت تو آرام کا ہو

نجف، مکہ، مدینہ، کربلا، مشہد کرو یاد

جہاں بھی تذکرہ حیدر امیرِ شام کا ہو


فقیہہ حیدر

No comments:

Post a Comment