اس لیے ہم کو نکالا کسی حُجت کے بغیر
دل میں رکھا تھا قدم اس کی اجازت کے بغیر
اس نے بھی سیکھ لیا ہو گا زمانے کا چلن
یاد کرتا ہی نہیں ہم کو ضرورت کے بغیر
اتنی آسانی سے پھل ہاتھ نہیں آ سکتا
شعر تو شعر نہیں ہوتا ریاضت کے بغیر
اسے احساس کے رشتوں سے نہیں کچھ مطلب
اس نے تو عمر گزاری ہے محبت کے بغیر
اس لیے قدر نہیں ہے تمہیں اس کی کوئی
دل تمہیں ہم نے دیا ہے کسی قیمت کے بغیر
میں تو یہ سوچ کے ہلکان ہوا جاتا ہوں
لوگ جیتے ہیں یہاں کس طرح عزت کے بغیر
ہم زمانے کو خفا کر کے چلے آئے ہیں
جینا دُشوار تھا صادق تِری قُربت کے بغیر
امین صادق
No comments:
Post a Comment