غمِ زندگی نے لا کر ہمیں اس جگہ پہ مارا
جہاں اِس طرف کنارا نہ ہے اُس طرف کنارا
یہ عجیب سا جہاں ہے یہاں سب ڈسے ہوئے ہیں
کوئی دشمنی کا مارا،۔ کوئی دوستی کا مارا
کئی کام رہ گئے ہیں تِرے عشق کے سبب سے
تِرے ساتھ بھی خسارا، تِرے بعد بھی خسارا
کوئی دوسرا نہیں ہے، مِری زندگی میں شامل
تِرے عشق نے بگاڑا، تِرے عشق نے سنوارا
تِرے شائبے میں ہم نے کبھی جب پلٹ کے دیکھا
کسی اور نے صدا دی،۔ کسی اور نے پکارا
ابرار ندیم
No comments:
Post a Comment