Saturday, 1 April 2023

زندگی کی حسین راہوں میں

 زندگی کی حسین راہوں میں

چند لمحوں کا ساتھ تھا لیکن

اب بھی سوچوں تو صاف لگتا ہے

میری مٹھی میں اور کچھ بھی نہیں

سچ تو یہ ہے کہ تجھ سے پہلے بھی 

زندگی کے دراز دامن میں 

کچھ نہیں تھا اداسیوں کے سوا

جھوٹ یہ بھی نہیں کہ تنہائی

میرے دیوار و در سے لپٹی ہے 

وحشتِ ہجر کی سیہ کائی 

جسم و جاں کے تمام کونوں پر 

یک بہ یک جم گئی ہے تیرے بعد

جانے والے یقین کر میرا

زندگی تھم گئی ہے تیرے بعد

تُو کہ خُوش ہو گا اپنی دُنیا میں

تُجھ کو پروا ہی کیا کہ تیرے بعد 

کوئی آباد ہی نہیں ہو گا

جانے والے کوئی کہاں اُجڑا

اب تُجھے یاد ہی نہیں ہو گا


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment