ہر ایک شخص یہ کہتا رہا اضافی ہے
یہ کائنات تمہارے سوا اضافی ہے
وہ سب سے پوچھ رہی تھی کہ زندگی کیا ہے
تو اپنی باری پہ میں نے کہا؛ اضافی ہے
تُو راگ داری سے پہلے کا ہے کوئی سنگیت
سو تجھ کو گانے سے پہلے کا آ اضافی ہے
یہ لوگ دیکھ تو سکتے ہیں سن نہیں سکتے
سو ان کو کاسہ دکھاؤ، صدا اضافی ہے
ہمارے شہر میں اب مل رہی ہے تازہ گھٹن
جو چل رہی ہے یہاں پر ہوا اضافی ہے
میں اک پرانی سی تصویر ہوں مجھے گھر میں
تم اس جگہ پہ رکھو، جو جگہ اضافی ہے
مصور عباس
No comments:
Post a Comment