Saturday, 1 April 2023

ہر ایک شخص یہ کہتا رہا اضافی ہے

ہر ایک شخص یہ کہتا رہا اضافی ہے

یہ کائنات تمہارے سوا اضافی ہے

وہ سب سے پوچھ رہی تھی کہ زندگی کیا ہے

تو اپنی باری پہ میں نے کہا؛ اضافی ہے 

تُو راگ داری سے پہلے کا ہے کوئی سنگیت

سو تجھ کو گانے سے پہلے کا آ اضافی ہے

یہ لوگ دیکھ تو سکتے ہیں سن نہیں سکتے

سو ان کو کاسہ دکھاؤ، صدا اضافی ہے 

ہمارے شہر میں اب مل رہی ہے تازہ گھٹن

جو چل رہی ہے یہاں پر ہوا اضافی ہے

میں اک پرانی سی تصویر ہوں مجھے گھر میں

تم اس جگہ پہ رکھو، جو جگہ اضافی ہے


مصور عباس

No comments:

Post a Comment