Thursday, 30 April 2015

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جيسے

يوں نہ مِل مجھ سے خفا ہو جيسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جيسے
لوگ يوں ديكھ كر ہنس ديتے ہيں
تُو مجھے بھول گيا ہو جيسے
موت بھی آئی تو اس ناز كے ساتھ
مجھ پہ احسان كيا ہو جيسے

کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے

 کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے

کسی بھی حال میں ہم حوصلہ کچھ کم نہیں کرتے

ہم آنے والے کل کے واسطے بے چین رہتے ہیں

جو کل گزرا ہے اس کل کا کبھی ماتم نہیں کرتے

ہماری ذات سے تکلیف پہنچے کوئی نا ممکن

کوئی ناحق اگر روٹھے تو اس کا غم نہیں کرتے

ہمنشیں پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے

ہمنشیں پوچھ نہ مجھ سے کہ، محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ
تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر رہا ہے مِرا سر گردشِ ایام کے ساتھ
سن! کہ نغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں، کہرام کے ساتھ

سب کو ادراک زیاں گر کے سنبھلنے سے ہوا

سب کو ادراکِ زیاں گر کے سنبھلنے سے ہوا
مجھ کو احساس تِرے دَر سے نکلنے سے ہوا
کوئی زنجیر کا حلقہ نہیں دیتا جھنکار
حال زنداں کا یہ اک میرے نکلنے سے ہوا
کوئی رازِ دلِ کہسار نہ کھلنے پایا
روز اعلان تو چشموں کے ابلنے سے ہوا

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا
جہاں رُکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لیے
کوئی نسیم کا نغمہ، کوئی شمیم کا راگ
فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لیے

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہو گا

نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہو گا
نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی کجلا گئی تو کیا ہو گا
نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھے
میں بے ادب ہوں، ہنسی آ گئی تو کیا ہو گا

انساں نہیں رہتا ہے تو ہوتا نہیں غم بھی​

انساں نہیں رہتا ہے تو ہوتا نہیں غم بھی​
سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی​
بے جا نہیں کہہ دوں جو اسے لطف و کرم بھی​
قسمت میں مِری اتنے کہاں تھے تِرے غم بھی​
جس لغزش آدمؑ سے خلافت ہے مزین​
اس جوشِ محبت کے خطاوار ہیں ہم بھی​