Sunday, 3 April 2016

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں 
مجھ سے ملنے مِرے احباب نہیں آتے ہیں
شہر کی بھیڑ سے خود کو بچا کر لاتا ہوں 
گو سلامت مِرے اعصاب نہیں آتے ہیں
تشنگی دشت کی دریا کو ڈبو دے نہ کہیں 
اس لیے دشت میں سیلاب نہیں آتے ہیں
ڈوبتے وقت سمندر میں مِرے ہاتھ لگے 
وہ جواہر جو سرِ آب نہیں آتے ہیں
یا انہیں آتی نہیں بزمِ سخن آرائی 
یا ہمیں بزم کے آداب نہیں اتے ہیں
ہم نشین! دیکھ، مکافات عمل ہے دنیا 
کام کچھ بھی یہاں اسباب نہیں آتے ہیں

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment