Thursday, 7 April 2016

جب ضبط کروں دل سے نکلتی ہے فغاں اور

جب ضبط کروں دل سے نکلتی ہے فغاں اور
میں آگ بجھاتا ہوں تو اٹھتا ہے دھواں اور
تم دل کے نگر میں اسے ڈھونڈو گے کہاں اور
وہ شخص تو ہر روز بدلتا ہے مکاں اور
بادل ہے وہ، پَل پَل بدلتا ہے ہوا سے
کیا اس کا بھروسہ ہے، یہاں اور وہاں اور
اس جسم سے مِٹتے ہی نہیں وصل کے آثار
میں ہاتھ لگاتا ہوں تو پڑتے ہیں نشاں اور
جب دو گے دل و جاں تو خبر تب تمہیں ہو گی
لینا دل و جاں اور ہے،۔ دینا دل و جاں اور
شاید کہ فلک شدتِ حِدت سے چٹخ جائے
اک آہ ذرا زور سے اے غم زدگاں اور
تم مانگ میں افشاں تو ذرا وصل کی بھر لو
ممکن ہے کہ بن جائے کوئی کاہکشاں اور
کچھ پھول کھِلائے تو ہیں غالبؔ کی زمیں میں
دو چار گھڑی آئے نہ اے کاش خزاں اور
نذرانہ سخن کا یہ عدیمؔ اس کے لیے ہے
وہ جس کا زمانے میں ہے اندازِ بیاں اور
رک جاؤ عدیمؔ،۔ اپنا سخن سنگ بنا لو
بھاگو گے تو بڑھ جائے گی آوازِ سگاں اور

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment