ہو لاکھ چارہ سازی لیکن اثر نہیں ہے
ہاں درخورِ مداوا زخمِ جگر نہیں ہے
مدت سے ڈھونڈتا ہوں ملتا مگر نہیں ہے
وہ اک سکونِ خاطر جو بیشتر نہیں ہے
دل تھا تو ہو رہا تھا احساس زندگی بھی
آہیں بھریں بہت کچھ، دم توڑنا ہے باقی
اس آہ میں بھی دیکھوں ہے یا اثر نہیں ہے
مرنے پہ جسمِ خاکی کیا ساتھ روح کا دے
راہِ عدم میں غافل، گردِ سفر نہیں ہے
ہر چیز کو جہاں میں ہر وقت ہے تغیر
لیکن شبِ جدائی تیری سحر نہیں ہے
دنیا سے جا رہے ہو کیا لے کے اے نظرؔ تم
زادَ سفر نہیں ہے، رختِ سفر نہیں ہے
منشی نوبت رائے
(منشی نظر لکھنوی)
No comments:
Post a Comment