Friday, 9 December 2016

آواز دے کے خود کو بلانا پڑا مجھے

آواز دے کے خود کو بلانا پڑا مجھے
اپنی مدد کو آپ ہی آنا پڑا مجھے
مجھ سے تمہارے عکس کو کرتا تھا بدگماں
آئینہ درمیاں سے ہٹانا پڑا مجھے
پھر اس کے بعد جرأتِ گریہ نہیں‌ ہوئی 
اک اشک خاک سے جو اٹھانا پڑا مجھے
پھر یوں ہوا کہ جھوٹ کی عادت سی ہو گئی 
پھر یوں ہوا کہ سچ کو چھپانا پڑا مجھے
پانی قبول ہی نہیں‌ کرتا تھا میری لاش 
دریا کو اپنا نام بتانا پڑا مجھے
مہمان آ گیا تھا، سو کھانے کی میز پر 
جلتا ہوا چراغ بجھانا پڑا مجھے
دھرتی کے ظرف کا ہوا اندازہ جب منیر
کچھ روز اپنا بوجھ اٹھانا پڑا مجھے

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment