آواز دے کے خود کو بلانا پڑا مجھے
اپنی مدد کو آپ ہی آنا پڑا مجھے
مجھ سے تمہارے عکس کو کرتا تھا بدگماں
آئینہ درمیاں سے ہٹانا پڑا مجھے
پھر اس کے بعد جرأتِ گریہ نہیں ہوئی
پھر یوں ہوا کہ جھوٹ کی عادت سی ہو گئی
پھر یوں ہوا کہ سچ کو چھپانا پڑا مجھے
پانی قبول ہی نہیں کرتا تھا میری لاش
دریا کو اپنا نام بتانا پڑا مجھے
مہمان آ گیا تھا، سو کھانے کی میز پر
جلتا ہوا چراغ بجھانا پڑا مجھے
دھرتی کے ظرف کا ہوا اندازہ جب منیر
کچھ روز اپنا بوجھ اٹھانا پڑا مجھے
منیر سیفی
No comments:
Post a Comment