Friday, 9 December 2016

آسمانوں سے اگر ایک اشارہ ہو جائے

آسمانوں سے اگر ایک اشارہ ہو جائے
جو نہ ہوتا ہو، وہی کام ہمارا ہو جائے
یہ بھی ممکن ہے دریا ہی بدل لے رستہ
ہم کنارہ نہ کریں، اور کنارہ ہو جائے
ایک ادنیٰ سی کرامت ہے یہ میرے غم کی
تُو بھی گر آنکھ میں رہ جائے ستارہ ہو جائے
زندہ رکھے گی مجھے ایک محبت کب تک
چاہے پہلا ہی سہی، عشق دوبارہ ہو جائے
عزت اتنی کہ نہ ہو انت کوئی جس کا منیرؔ
رزق اتنا کہ محبت سے گزارا ہو جائے

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment