آسمانوں سے اگر ایک اشارہ ہو جائے
جو نہ ہوتا ہو، وہی کام ہمارا ہو جائے
یہ بھی ممکن ہے دریا ہی بدل لے رستہ
ہم کنارہ نہ کریں، اور کنارہ ہو جائے
ایک ادنیٰ سی کرامت ہے یہ میرے غم کی
زندہ رکھے گی مجھے ایک محبت کب تک
چاہے پہلا ہی سہی، عشق دوبارہ ہو جائے
عزت اتنی کہ نہ ہو انت کوئی جس کا منیرؔ
رزق اتنا کہ محبت سے گزارا ہو جائے
منیر سیفی
No comments:
Post a Comment