اک شہر میں کہ پایۂ تختِ قدیم ہے
پچھلے پہر سے آج بہت شور و شین ہے
دیوار و در سے تہنیتِ فتح ہے بلند
غل ہے کہ آج عیش ہے راحت ہے چین ہے
پرچم ہیں بیرکیں ہیں، علم ہیں نشان ہیں
گویا کہ وقت برہمئ مشرقین ہے
مسند نشین ہے تختِ حکومت پہ جلوہ گر
دربار ہے کہ جلوہ گہِ زیب و زین ہے
ہیں بے حجاب پردہ گیانِ حریمِ قدس
جن کی زبان پہ شور ہے نوحہ ہے بین ہے
تاکید ان سے ہے کہ ادب سے کھڑی رہیں
یعنی یہ احترامِ شہی فرضِ عین ہے
شبلی نعمانی
No comments:
Post a Comment