عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام
کب اس کا انداز زمانے والا ہے
دشت میں وہ گلزار کھلانے والا ہے
ابنِ علی کی شان جدا ہے دنیا میں
نیزے پر قرآن سنانے والا ہے
اصغر اس کی گود میں مقتل آیا تھا
حوصلہ اس کے جیسا کون دکھائے گا
جو اکبر کی لاش اٹھانے والا ہے
پیاسی سکینہ روتی ہے اور کہتی ہے
میرا چاچا پانی لانے والا ہے
وار دیا ہے جس نے گود کے پالوں کو
وہ ظالم کی نسل مٹانے والا ہے
کاشف کمال
No comments:
Post a Comment