Thursday, 22 December 2016

کب اس کا انداز زمانے والا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

کب اس کا انداز زمانے والا ہے
دشت میں وہ گلزار کھلانے والا ہے
ابنِ علی کی شان جدا ہے دنیا میں
نیزے پر قرآن سنانے والا ہے
اصغر اس کی گود میں مقتل آیا تھا
وہ دنیا کو صبر سکھانے والا ہے
حوصلہ اس کے جیسا کون دکھائے گا
جو اکبر کی لاش اٹھانے والا ہے
پیاسی سکینہ روتی ہے اور کہتی ہے
میرا چاچا پانی لانے والا ہے
وار دیا ہے جس نے گود کے پالوں کو
وہ ظالم کی نسل مٹانے والا ہے 

کاشف کمال

No comments:

Post a Comment